سوال نمبر:5
السلام علیکم مفتی صاحب! میں روزگار کے سلسلے میں‌ بیرونِ ملک مقیم ہوں۔ یہاں جن لوگوں‌ کے ساتھ رہائش ہے وہ غیر مسلم ہیں۔ کام دھندے کی تھکاوٹ کی وجہ سے صبح سحری کے وقت آنکھ نہیں‌ کھلتی نہ ہی کوئی جگاتا ہے۔ کیا اگر سحری نہ ہو پائے تو فجر کی نماز کے وقت روزے کی نیت کرنا درست ہوگا؟

جواب:

سحری کھانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سحری کھانے کا حکم دیا اور اس کے فضائل وبرکات بھی بیان فرمائے۔ حدیث مبارکہ:

تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً

سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے۔

درج بالا احادیث سے ظاہرتا ہے کہ سحری کرنا عبادت اور باعثِ برکت و ثواب ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص سحری کے وقت بیدار نہیں ہوسکا یا با امرِ مجبوری سحری کا اہتمام نہیں کر سکا تو سحری کھائے بغیر بھی روزہ رکھ سکتا ہے۔ سحری کھائے بغیر روزہ درست ہوگا، مگر سحری کی برکت اور اجر و ثواب سے محرومی رہے گی۔ اس لیے جان بوجھ کر سحری ترک کرنا اہل کتاب کی مشابہت ہونے کے سبب جائز نہیں ہے۔

0 comments
Sort by Oldest ▼

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *